درخت ایسے نباتات ہیں جس کا عموماً ایک بڑا تنا ہو جو اوپر جا کر شاخوں میں تقسیم ہوجائے اور ان شاخوں پر پتے،پھول،پھل ہوتے ہیں۔
درخت زمین پر زندگی کیلئے بے حد ضروری ہے یہ جانوروں اور انسانوں کے لئے بنتے ہیں بلکہ زمین پرآکسیجن کا تناسب بگڑنےنہیں دیتے۔ دن کے وقت یہ درخت آکسیجن پیدا کرتے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور رات میں یہی عمل اُلٹ جاتا ہے ۔
جب سردی کا موسم شمالی کرہ میں ختم ہوتا ہے تو اِدھر درختوں پر پتے آجاتے ہیں اور یکا یک لاکھوں درخت آکسیجن پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہارکے موسم میں زمین پر آکسیجن کا تناسب بہت بہتر ہوتا ہے ۔ایک نظریہ کے مطابق دیکھا جائے تو درخت ہی ہیں جو سالوں کے عمل کے بعد کوئلہ میں تبدیل ہوئے اور توانائی کا وسیلہ ہیں۔بعض درخت کسی مذہب میں مقدس بھی ہوتے ہیں اور اکثردرخت کسی نہ کسی بیماری کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔
یہ درخت ہی ہیں جن سے آکسیجن پیدا ہوتی ہے اور ماحول کوخوشگواراور صحت مند بناکر گرمی کا زور توڑنے اور آبی بخارات بنا بارش کا سبب ہیں گویا درخت قدرت کا انسان دوست عطیہ ہے۔
ہم کو بحثیت مجموعی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ قدرت کے اس خوبصورت خزانے کی حفاظت کرنا ہماری قومی و مذہبی ذمہ داری ہے یہ بات اس حدیث پر ختم کرتا ہوں ۔ "حدیث کا مفہوم ہے کہ" جو مسلمان کوئی پودا لگاتا یا کھیتی بوتا ہے اور اس سے کوئی انسان یا پرندہ کھاتا ہے وہ اس کیلئےصدقہ جاریہ ہے۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment